سینیٹ کمیٹی نے انمول پنکی کے سیکیورٹی پروٹوکول پر سوالات اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے انمول پنکی کو دیے گئے سیکیورٹی پروٹوکول پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس پروٹوکول کی وجوہات اور ذمہ داران کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں انمول پنکی کیس اور تمباکو پر ٹیکس چوری کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر ابڑو نے انمول پنکی کے پروٹوکول پر سوال اٹھایا کہ اتنا پروٹوکول تو وزیراعظم کو بھی حاصل نہیں ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے طنزیہ کہا کہ انمول پنکی کو صدارتی ایوارڈ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انمول پنکی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو اطمینان ہو سکے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید علی رضا نے بریفنگ میں بتایا کہ انمول پنکی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ کیس میں دو نائجیرین باشندے بھی گرفتار کیے گئے ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر منشیات کی فروخت میں معاونت کی۔
واضح رہے کہ تمباکو پر ٹیکس چوری کے معاملے پر بھی اجلاس میں بحث ہوئی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف بی آر کے چیف آپریشنز افسر پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور انہیں اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی۔












