ظہران ممدانی کی مقبولیت اور نیویارک کے ممکنہ میئر کی حیثیت میں ان کی پیش قدمی

ظہران ممدانی کی مثبت توانائی اور عام آدمی سے جڑنے کا انداز انہیں نیویارک کے ممکنہ میئر کے طور پر مقبول بنا رہا ہے، حالانکہ انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیویارک کے ممکنہ مسلمان میئر ظہران ممدانی اس وقت امریکا بھر میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ چونتیس سالہ ممدانی اپنی مثبت توانائی، مسکراہٹ اور عام آدمی سے جڑنے کے انداز کے باعث نمایاں ہیں اور نیویارک کے سیاسی منظرنامے کا معروف چہرہ بن چکے ہیں۔

ممدانی کی عوامی مقبولیت کے ساتھ انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے، جہاں سابق گورنر اینڈریو کومو اور ارب پتی بل ایکمین نے ان پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے باوجود ممدانی کا عوامی گراف مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

ہارورڈ انسٹیٹیوٹ آف پالیٹکس کی تحقیق کے مطابق نوجوان نسل بڑی تعداد میں انہیں سپورٹ کر رہی ہے۔ ان کے حامیوں کے مطابق ممدانی عام سیاستدانوں سے مختلف ہیں، وہ شہر کے بنیادی مسائل جیسے کرایوں، مہنگائی اور خوراک پر بات کرتے ہیں۔

ان کا مسلمان ہونا، فلسطین کی حمایت اور تارکین وطن کے ساتھ کھڑا ہونا انہیں کمزور طبقات میں مقبول بنا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ممدانی کی اصل طاقت ان کا سچ بولنے کا انداز ہے، جو انہیں عام امریکیوں کے دلوں کے قریب لے آیا ہے۔

نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل، جو ابتدا میں ان کی ناقد تھیں، نے بھی ستمبر میں ان کی حمایت کر دی۔ ممدانی کی سادگی، انسان دوستی اور ایمانداری نیویارک کے شہریوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہی ہیں، جس کی بنا پر وہ میئر کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں