بنگلہ دیش میں جمہوری اصلاحات پر اختلافات، محمد یونس کا دوٹوک اعلان

بنگلہ دیش میں جمہوری اصلاحات کا منصوبہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے تعطل کا شکار، محمد یونس نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

ڈھاکا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلہ دیش میں جمہوری اصلاحات کا منصوبہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا ہے، عبوری حکومت نے سیاسی جماعتوں کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ اصلاحاتی چارٹر پر متفق ہوں، بصورت دیگر حکومت خود فیصلہ کرے گی۔

نوبیل انعام یافتہ محمد یونس، جو عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ہیں، نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک تباہ حال سیاسی نظام وراثت میں پایا ہے اور اصلاحات کو ملک کو دوبارہ آمرانہ طرز حکومت سے بچانے کے لیے ضروری قرار دیا۔

‘جولائی چارٹر’ نامی منصوبہ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد وزیراعظم کے لیے دو مدت کی حد مقرر کرنا اور صدارتی اختیارات میں اضافہ کرنا ہے، جبکہ بعض جماعتیں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس کی منظوری چاہتی ہیں۔

بی این پی اور جماعتِ اسلامی سمیت کئی بڑی جماعتوں نے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ بی این پی نے اعلان کیا ہے کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا آئندہ عام انتخابات میں حصہ لیں گی۔

خالدہ ضیا، جو خراب صحت اور سیاسی مقدمات کی وجہ سے سیاست سے دور تھیں، تین نشستوں سے انتخاب لڑیں گی اور ان کے بیٹے طارق رحمان بھی برطانیہ سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ بنگلہ دیشی عبوری حکومت نے پرائمری اسکولوں میں موسیقی کے اساتذہ بھرتی کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، جو مذہبی تنظیموں کے دباؤ کے بعد کیا گیا۔

دیگر متعلقہ خبریں