مالی سال 26-2025 کے اقتصادی جائزے میں حکومت کی معیaشتی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی، اہم اہداف پورے نہ ہو سکے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا اقتصادی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا اور غیر یقینی صورتحال نے معیشت کو متاثر کیا۔
اقتصادی سروے کے مطابق توقع کی جارہی تھی کہ ملکی شرح نمو 4 فیصد سے زائد ہوگی، لیکن موجودہ مالی سال میں یہ 3.7 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال بہتر ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے زیادہ ہوتی۔
حکومت کی جانب سے پیداواری شعبے کی ترقی کا ہدف 4.7 فیصد رکھا گیا تھا لیکن یہ 6.6 فیصد رہی۔ زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد تھا جبکہ حقیقی ترقی 2.89 فیصد رہی۔
واضح رہے کہ درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا جبکہ 11 ماہ میں 63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا لیکن 11 ماہ میں 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد رہی جبکہ اوسطاً مہنگائی 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ملکی معاشی ترقی کی شرح 4.2 ہدف کے برعکس 3.7 فیصد تک محدود رہی۔













