دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان دہشتگردوں کا مرکز بن چکا ہے، جس سے علاقائی امن کو خطرات لاحق ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) افغانستان ایک بار پھر عالمی اور علاقائی دہشت گرد تنظیموں کے مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ طالبان کی حکومت کے تحت، دہشت گرد گروہ منظم انداز میں سرگرم ہیں جس سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
دوحہ امن معاہدے کے تحت افغان طالبان نے اس یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ طالبان حکومت اور القاعدہ کے تعلقات نہ صرف برقرار ہیں بلکہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ القاعدہ اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہے، اور دہشت گرد زابل، وردک، قندھار، پکتیا اور ہلمند کے راستوں سے پاکستان کے بلوچستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ فتنہ الخوارج کی قیادت کو افغان سرزمین پر مکمل پناہ، وسائل اور مالی معاونت حاصل ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ مہینوں کے دوران تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دوحہ امن معاہدہ محض کاغذی وعدہ ثابت ہوا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت افغان طالبان پر سخت پابندیاں عائد کریں تاکہ علاقائی امن، استحکام اور پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔













