اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ جنگ کی دھمکی دی، حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ: (رائیٹ ناؤ نیوز) اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ جنگ کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔
غزہ میں گزشتہ سال سے جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ ہیں۔ خان یونس اور دیر البلح میں حملے، ڈرونز کی پروازیں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق 800 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی اجلاس منسوخ کر کے مشاورت شروع کر دی ہے۔ فوجی حکام نے کہا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو جنگ کا آغاز تقریباً یقینی ہے۔
امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت غزہ میں امداد، تعمیر نو اور سرحدی گزرگاہوں کا کھلنا مشروط کیا گیا ہے۔ حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، مطالبہ کیا مکمل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا قیام ہو۔
یاد رہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے بڑھا چکا ہے۔ لبنانی اور مغربی کنارے سے اضافی فوجی دستے بھی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور 72 ہزار سے زائد جاں بحق ہو چکے ہیں۔














