امریکی فوج نے ایرانی قیادت کو مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے پر نشانہ بنانے کا آپشن زیر غور لیا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی فوج نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی قیادت کی جانب سے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے پر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق احمد وحیدی سمیت پاسداران انقلاب کے دیگر قائدین ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔ جنگ بندی کے خاتمے پر آبنائے ہرمز میں بھی امریکی کارروائی کا امکان ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے۔ امریکی افواج نے جنگی جہازوں اور طیاروں کی پوزیشنز کو تبدیل کیا ہے۔
مزید یہ کہ تیسرا طیارہ بردار جہاز بھی ایران کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ اقدامات امریکی فوج کی جانب سے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کافی عرصے سے تعطل ہے۔ ان حالات میں امریکی فوج کی یہ تیاری کسی ممکنہ تنازعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔













