ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے امریکی دباؤ پر مذاکرات مسترد کر دیے، کہا کہ طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی تہذیب رکھنے والا ملک طاقت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ دھمکی اور زور زبردستی کے سائے میں مذاکرات اسلامی اور نظریاتی اصولوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔
موجودہ صورتحال کے حوالے سے رضا امیری مقدم نے زور دیا کہ امریکی دباؤ کی موجودگی میں معاہدے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی تہذیب اور تاریخ اس کی خودمختاری کا ثبوت ہے۔
اس معاملے کی اہمیت یہ ہے کہ ایران کا موقف طاقت اور جبر کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ یہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور عالمی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ امریکا سے متضاد اشارے مل رہے ہیں اور اعتماد کی بحالی کے لیے معاہدے پورے کرنے ضروری ہیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔












