ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے پہلے کشیدگی بڑھ گئی ہے، ایرانی وفد نے امریکی وعدہ خلافی پر تحفظات اٹھائے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات سے پہلے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایرانی وفد نے پاکستان میں اعلیٰ سطحی رابطوں کے دوران امریکی وعدہ خلافی اور جنگ بندی پر تحفظات اٹھائے ہیں۔
وفد کی پاکستانی قیادت سے ابتدائی ملاقات کو پورے عمل کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد مذاکرات کے وقت اور طریقۂ کار پر وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد کی ملاقات بظاہر مذاکراتی ایجنڈا طے کرنے کی اہم کڑی بن سکتی ہے، کیونکہ اسی کے بعد وقت، طریقۂ کار اور آئندہ مرحلوں پر پیش رفت متوقع ہے، تاہم تعطل کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے 2 بنیادی شرائط سامنے رکھی ہیں، جن میں لبنان میں مؤثر جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق پیش رفت شامل ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی پیشگی شرائط پوری نہ ہوئیں تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ اگر واشنگٹن مذاکرات کو بے فائدہ سیاسی مظاہرہ سمجھتا ہے تو ایران قومی حقوق کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں اور اس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے بغیر مذاکرات کو آگے بڑھنے سے روکا ہے۔ ان رابطوں کو پورے مذاکراتی عمل کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔











