لاہور کی عدالت نے این سی سی آئی اے کے افسران کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کر لی، بھاری رقم کی ریکوری سے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور کی عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے چھ افسران کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کر لی۔ یہ افسران رشوت کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی جبکہ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی بھی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں 90 لاکھ روپے کا ذکر تھا لیکن ریکوری چار کروڑ روپے سے زائد ہوئی۔ وکیل کے مطابق ملزمان نہایت چالاک ہیں اور ان سے تفتیش کے لیے غیر معمولی طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان رشوت کے مختلف طریقہ کار سے واقف ہیں اور ابتدائی انکوائری کے مطابق رشوت وصولی میں ملوث پائے گئے ہیں۔
عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران بھاری رقم کی ریکوری کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں 3 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے کی مجموعی ریکوری ہوئی جن میں سے سرفراز چوہدری سے ایک کروڑ 12 لاکھ 95 ہزار روپے برآمد ہوئے ہیں۔













