ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا اور حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کسی دباؤ یا خوف کا شکار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دیا جائے گا اور امریکا کے شراکت دار ممالک کی توانائی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ امریکا اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر بحری راستوں کی صورتحال کا الزام ڈالنا درست نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا، بصورت دیگر ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔











