صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری و فضائی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے اور امریکا تیل کی پیداوار میں خودکفیل بن چکا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے حالیہ کارروائیوں میں ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے دفاعی نظام، ریڈار مراکز اور بیلسٹک میزائل لانچرز کے تقریباً 95 فیصد حصے کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 100 سے زائد بحری جہاز اور 30 بحری بیڑے بھی غرق کر دیے گئے۔
اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے ان ممالک کو آگے آنا چاہیے جن کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا صرف 1 فیصد تیل اس گزرگاہ سے گزرتا ہے جبکہ چین، جاپان اور دیگر ممالک کا بڑا انحصار اسی راستے پر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ایران کی فوجی طاقت تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عالمی طاقتوں سے مدد کی منتیں اور اتحادی ممالک کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے ان ممالک کو آگے آنا چاہیے جن کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا صرف 1 فیصد تیل اس گزرگاہ سے گزرتا ہے جبکہ چین، جاپان اور یورپی ممالک کا بڑا انحصار اسی راستے پر ہے، اس لیے انہیں اس کی حفاظت میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو اتحاد کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس معاملے پر تقریباً 7 ممالک سے رابطے میں ہے اور اسرائیل بھی اس مقصد کے لیے تعاون کر رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں لیکن انہیں نہیں لگتا کہ تہران کسی معاہدے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ شی جن پھنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے اور یہ ملاقات تبھی مفید ہوگی جب ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک اس راستے کی حفاظت میں مدد کریں۔
واضح رہے کہ امریکا نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم بیشتر ممالک نے اس معاملے پر محتاط یا خاموش ردعمل دیا ہے۔











