امریکی آبدوز کے حملے کے بعد بھارتی بحریہ کی بحرِ ہند کی خودساختہ ”نگہبان“ ہونے کے دعوے پر سوالات اٹھے ہیں۔
کولمبو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی آبدوز کے حملے میں ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کی تباہی کے بعد بھارتی حکومت کے اس دعوے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جس میں بھارتی بحریہ کو بحرِ ہند کا ”نگہبان“قرار دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب پیش آیا جب ایرانی جنگی جہاز بھارت میں ہونے والی بحری مشقوں سے واپس جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز امریکی آبدوز نے ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو سری لنکا کے جنوبی ساحل سے تقریباً 44 ناٹیکل میل (81 کلومیٹر) دور نشانہ بنایا۔ یہ جہاز بھارتی بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی کثیر ملکی بحری مشق میلان میں شرکت کے بعد وطن واپس جا رہا تھا۔
اس سے چند ماہ قبل اکتوبر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بحریہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بحرِ ہند عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور بھارتی بحریہ اس سمندر کی “نگہبان” ہے۔ اس موقع پر ان کے خطاب کے دوران شرکاء نے نعرے بھی لگائے تھے۔
مشق میلان کے دوران بھارتی صدر دروپدی مرمو نے ایرانی جنگی جہاز ڈینا کے ملاحوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائی تھیں۔ تاہم جہاز پر حملے کے بعد بھارتی بحریہ کو اس واقعے پر باضابطہ ردعمل دینے میں ایک دن سے زیادہ وقت لگ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ کو خطے کے سمندری علاقوں تک بھی پھیلانے کے لیے تیار ہے۔ اس واقعے کے بعد بحرِ ہند میں سلامتی اور علاقائی طاقت کے توازن پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔













