صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہمسایہ ملک کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابل قبول ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہیں اور ہمسایہ ملک کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابل قبول ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ سے ان کا یہ نواں خطاب ہے، جو جمہوری تسلسل کی علامت ہے۔ انہوں نے ملکی خودمختاری کے تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومیں بحرانوں اور اہم موڑ پر آزمائش کا سامنا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے آئین پر مبنی جمہوری ریاست کا خواب دیکھا اور ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا۔ بے نظیر بھٹو نے جمہوری عمل کو مضبوط کیا جبکہ انہوں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کیے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان کی افواج نے بھارتی حملے کو تاریخی فتح میں بدل دیا اور کسی بھی محاذ پر خودمختاری کو چیلنج ہونے پر مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغان طالبان کو فیصلہ کن جواب دیا اور کہا کہ قومی قیادت اور افواج کی قربانیاں صرف اعداد وشمار تک محدود نہیں ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ 26 فروری کی رات طالبان نے مغربی سرحد پر حملے کیے، مگر ہماری سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور آرٹیکل 51 کے تحت اپنی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔















