سی ڈی اے نے اسلام آباد کی 97 غیر قانونی سکیموں کو قانونی دائرے میں لانے کی تیاری شروع کر دی، ماہرین نے ماحولیاتی تحفظ پر سوالات اٹھائے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کی 97 غیر قانونی رہائشی سکیموں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے ریگولرائزیشن فریم ورک کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس اقدام نے شہر کے گرین ایریاز اور ماحولیاتی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد سکیموں میں عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو رہائشی پلاٹس میں تبدیل کیا گیا، جس سے گرین ایریاز میں کمی واقع ہوئی۔
16 جنوری 2025 کو منعقدہ ایک اجلاس کی دستاویز میں واضح کیا گیا کہ نجی ہاؤسنگ سکیموں میں “Amenities/Public Building Areas” کے شارٹ فال اور غیر قانونی تبدیلیوں کے معاملات سامنے آئے، جن میں پارکس، کھلی جگہوں، قبرستانوں اور عوامی عمارات کی زمین کو فروخت کے قابل پلاٹس میں تبدیل کیا گیا ۔ دستاویز میں اس امر کا اعتراف بھی موجود ہے کہ ماضی میں بلڈنگ کنٹرول اور نگرانی کے نظام میں کمزوریاں رہیں، جس سے بعض منصوبوں کو ضابطہ کی خلاف ورزی کے باوجود کام جاری رکھنے کا موقع ملا ۔
Minutes of Meeting Regarding Clarifications Interpretation / Amendments in The CDA Regulations for Private Housing Schemes/Projects in ICT, Islamabad 28 Jan, 2026
minutes-of-meeting_Regarding_Clarifications_Interpretation
سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد کی ترقی ماسٹر پلان کے تحت کی جاتی ہے، مگر بعض غیر حاصل شدہ زونز میں نجی سکیموں کی توسیع ماسٹر پلان کی خلاف ورزی میں جاری رہی۔ زون 1، 2، 3 اور 4 کے مختلف حصوں میں بغیر این او سی، بغیر مکمل منظوری اور بغیر طے شدہ ترقیاتی معیارات کے سکیمیں قائم کی گئیں۔ ان سکیموں میں پلاٹس کی فروخت، مارکیٹنگ اور تعمیرات جاری رہیں، جبکہ بعض مقامات پر سہولیات کے لیے مختص زمین کو رہائشی یا تجارتی استعمال میں لایا گیا۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق اسلام آباد کا ماسٹر پلان صرف رہائشی نقشہ نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی دستاویز بھی ہے۔ شہر کے گرین بیلٹس، کھلی جگہیں اور پارکس درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، بارش کے پانی کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنے اور فضائی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہی زمین کنکریٹ میں تبدیل ہوتی ہے تو شہری ہیٹ آئی لینڈ اثر بڑھتا ہے، زیر زمین پانی کی ری چارجنگ متاثر ہوتی ہے اور نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
سی ڈی اے کی دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ میجر روڈز کے رائٹ آف وے اور گرین بیلٹس کو سکیموں کے اندرونی سبز رقبے میں شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض منصوبوں میں مرکزی شاہراہوں کے ساتھ موجود سبز پٹیوں کو سکیم کا حصہ ظاہر کر کے اندرونی گرین ایریا کم رکھا گیا۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ہر سکیم کو اپنے اندر رہائشی اور تجارتی علاقوں کے لیے علیحدہ سبز رقبہ فراہم کرنا ہوگا۔
ریگولرائزیشن فریم ورک کے تحت جن سکیموں میں پارکس، قبرستانوں، عوامی عمارات یا سڑکوں کے لیے مختص زمین کو تبدیل کیا گیا، وہاں یا تو اصل زمین بحال کی جائے گی یا متبادل زمین فراہم کرنا ہوگی۔ دستاویز کے مطابق تعلیمی اداروں، کلینکس اور کمیونٹی سینٹرز کے لیے متبادل زمین 3 کلومیٹر کے اندر، کالجز اور اسپتالوں کے لیے 5 کلومیٹر کے اندر، بڑی یونیورسٹی یا بڑے اسپتال کے لیے 10 کلومیٹر کے اندر اور قبرستان کے لیے 15 کلومیٹر کے اندر فراہم کی جائے گی ۔ متبادل زمین قانونی طور پر صاف، قابل رسائی اور کسی تنازع سے پاک ہوگی۔
اگر کوئی اسپانسر متبادل زمین فراہم نہ کرے تو اسے سہولیات کے شارٹ فال کے برابر مالی ادائیگی کرنا ہوگی۔ یہ ادائیگی ایف بی آر کے مقرر کردہ ریٹس کے مطابق ہوگی اور سی ڈی اے کے مطابق اسے عوامی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ اضافی فروخت شدہ رقبے پر بھی مقررہ شرح سے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق جن سکیموں میں سہولیات کے رقبے میں کمی یا تبدیلی کی نشاندہی ہوئی ان میں بحریہ انکلیو کے بعض حصے، پارک ویو ہاؤسنگ سکیم اور نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ہاؤسنگ سکیم سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ان سکیموں کے اسپانسرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ یا تو اصل اراضی بحال کریں یا مقررہ فاصلے کے اندر متبادل انتظام فراہم کریں۔ بعض معاملات میں پہلے ہی عوامی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور غیر منظور شدہ سکیموں کو مارکیٹنگ اور پلاٹس کی فروخت روکنے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اگر کسی رہائشی بلاک کے اندر پارک کی جگہ پلازہ تعمیر ہو جائے اور بعد ازاں 5 کلومیٹر دور زمین فراہم کی جائے تو مقامی سطح پر ماحولیاتی خلا برقرار رہتا ہے۔ گرین ایریا کی اصل افادیت مقامی مائیکرو کلائمٹ کو بہتر بنانا ہے، جس کا متبادل دور دراز زمین نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق ریگولرائزیشن کے عمل میں ماحولیاتی اثرات کا جامع جائزہ اور سبز رقبے کی بحالی کا واضح لائحہ عمل شامل ہونا چاہیے۔
دستاویز میں یہ بھی ذکر ہے کہ بعض ادوار میں بلڈنگ کنٹرول کی منظوری کے بغیر تعمیرات ہوئیں اور بعد ازاں عدالت کی مداخلت کے بعد اس عمل کو روکا گیا ۔ اس پس منظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولرائزیشن کے ساتھ ساتھ مستقبل میں غیر قانونی سکیموں کے اجرا کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق 8 جنوری 2026 کو قومی اخبارات میں کنسلٹنٹ کی خدمات کے لیے اشتہار دیا گیا اور 22 جنوری 2026 کو پری بڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف مشاورتی فرموں نے لینڈ یوز تجزیے اور مالی تخمینوں سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تمام تجاویز بورڈ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور بعد ازاں وفاقی حکومت سے بھی باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ منظوری کے بعد ضابطہ میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور ہر سکیم کا انفرادی جائزہ لیا جائے گا۔
ماہرین ماحولیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ریگولرائزیشن کو صرف جرمانوں اور مالی ادائیگیوں تک محدود رکھا گیا تو یہ ماڈل مستقبل میں مزید غیر قانونی سکیموں کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کے بعد قانونی حیثیت مل جانا ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے گرین بیلٹس، قدرتی نالوں اور کھلی جگہوں کا تحفظ صرف قانونی نہیں بلکہ ماحولیاتی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان شہر کی منظم اور ماحول دوست ترقی کے لیے بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور رہائشی سکیموں کی بے ضابطہ توسیع سے نہ صرف انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھا بلکہ شہری سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ ریگولرائزیشن کا موجودہ منصوبہ ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سبز رقبے کی حقیقی بحالی اور ماحولیاتی توازن کو ترجیح دی جاتی ہے یا نہیں۔















