پی ٹی آئی کارکنوں کا خیبر پختونخوا میں احتجاج، ٹریفک معطل

پی ٹی آئی کارکنوں نے خیبر پختونخوا میں داخلی و خارجی راستے بند کر دیے، جس سے آمدورفت معطل ہوگئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کیا جائے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پی ٹی آئی کارکنوں کا خیبر پختونخوا میں احتجاج، ٹریفک معطل

پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے تیسرے روز بھی جاری احتجاج کے باعث خیبر پختونخوا اتوار کو دیگر حصوں سے منقطع رہا۔ کارکنوں نے صوبے کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے، جس سے آمدورفت معطل ہوگئی۔

کارکنوں نے پشاور اسلام آباد موٹروے کو صوابی کے انبار انٹرچینج پر بند کیا جبکہ جی ٹی روڈ کو خیرآباد پل پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک روک دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان بھکر روڈ، لکی مروت میانوالی روڈ، ہزارہ موٹروے، کوہاٹ پنڈی روڈ اور قراقرم ہائی وے سمیت متعدد اہم شاہراہوں پر بھی دھرنے دیے گئے۔ مظاہرین نے کسی گاڑی کو صوبے میں داخل یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے جیل سے اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں اپنی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت دی جائے۔ خیرآباد پل پر سابق گورنر شاہ فرمان اور دیگر رہنما موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت کسی مریض کو علاج کی سہولت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بعض متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاہراہیں فوری کھولی جائیں۔ ضلع انتظامیہ صورتحال کی نگرانی کرتی رہی جبکہ شہریوں نے ٹریفک کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

لکی مروت اور کرک میں بھی کارکنوں نے بنوں میانوالی روڈ اور تیل و گیس کے بعض مقامات پر دھرنے دیے۔ ضلعی حکام کے مطابق چند علاقوں میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا میں ٹریفک کا نظام متاثر ہوا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں