امریکا غزہ کی تقسیم اور تعمیر نو کے لیے ‘گرین زون’ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا غزہ کی طویل المدتی تقسیم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں ایک ‘گرین زون’ اسرائیلی اور بین الاقوامی فوج کے زیر کنٹرول ہوگا، جہاں دوبارہ تعمیر کا آغاز ہوگا، جبکہ ‘ریڈ زون’ کو تباہ حالت میں چھوڑ دیا جائے گا۔
امریکی فوجی منصوبہ بندی کی دستاویزات کے مطابق، ابتدائی طور پر غیر ملکی فوجی اسرائیلی اہلکاروں کے ساتھ غزہ کے مشرقی حصے میں تعینات ہوں گے۔ اس طرح تباہ شدہ پٹی موجودہ اسرائیلی زیرِ کنٹرول ‘یلو لائن’ کے ذریعے تقسیم رہے گی۔
یہ منصوبہ امریکی جنگ بندی کے وعدے پر سوالات پیدا کر رہا ہے، جس میں غزہ میں فلسطینی حکمرانی کا وعدہ شامل تھا۔ غزہ کے مستقبل کے منصوبے تیزی سے بدل رہے ہیں، جو 20 لاکھ فلسطینیوں کو خوراک اور پناہ سمیت امداد فراہم کرنے کی ہنگامی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے امریکی منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج کے انخلا اور وسیع پیمانے پر تعمیر نو کے بغیر غزہ میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
امریکا نے یورپی ممالک کو بین الاقوامی امن فورس کا بنیادی حصہ بنانے کی تجویز دی، لیکن یورپی ممالک کی جانب سے فوج بھیجنے سے ہچکچاہٹ کے باعث منصوبہ غیر حقیقی قرار پایا۔















