چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے استعمال سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر

امریکی کالجوں میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیت متاثر، پروفیسرز روایتی تعلیم کی طرف لوٹنے پر غور کر رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اوکلاہوما: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد امریکی کالجوں میں تعلیمی ماحول تبدیل ہو گیا ہے۔ نومبر 2022 میں اس ٹول کے استعمال کے بعد طلبہ نے بغیر محنت کے اسائنمنٹ تیار کروانے شروع کر دیے، جس سے ان کی سوچ کر لکھنے کی صلاحیت کمزور ہو گئی۔

پروفیسر کوڈی ویور کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہ زیادہ تر اسائنمنٹ کلاس میں قلم اور کاغذ پر کرواتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے اساتذہ روایتی طریقوں کی طرف واپس جا سکتے ہیں تاکہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔

تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھ سے لکھنے سے یادداشت اور دماغی فعالیت میں بہتری آتی ہے۔ ڈاکٹر ویور نے اپنی کلاسز میں لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے تاکہ طلبہ کی توجہ اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

اوکلاہوما بیپٹسٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن نوبل کا کہنا ہے کہ اصل حل یہ ہے کہ طلبہ میں سیکھنے کی حقیقی خواہش پیدا کی جائے، کیونکہ جب طلبہ خود سے سیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ چیٹ بوٹس پر انحصار نہیں کرتے۔

ماہرین کے مطابق، موثر لکھنے کی صلاحیت نہ صرف تعلیمی بلکہ عملی زندگی میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہر نفسیات جورن پیٹرسن کے مطابق، تنقیدی سوچ سکھانے کے لئے لکھنے کی تعلیم ضروری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں