کراچی، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں مزدور حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف

کراچی اور فیصل آباد کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں مزدوروں کے حقوق کی پامالی کی نشاندہی، کم اجرت اور غیر محفوظ ملازمت کے حالات کا انکشاف۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
کراچی اور فیصل آباد کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں مزدوروں کے حقوق کی پامالی [Draft]

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز )کراچی اور فیصل آباد کی بڑی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں مزدوروں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔حالیہ چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ان فیکٹریوں میں یورپی ممالک کے لیے ملبوسات اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہ رپورٹ ’’پبلک منی، پرائیوٹ ہارم: پاکستان اور سویڈن سے سبق‘‘ کے عنوان سے جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کراچی اور فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ورکرز کے تاثرات پر مبنی حقائق شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق یورپی یونین کی خریداری پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے اور ملکی مزدور قوانین کی کمزور نگرانی کے باعث مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزدوروں کو کم اجرت دی جاتی ہے اور انہیں غیر محفوظ ملازمتوں میں رکھا جاتا ہے۔ کام کے حالات بھی بہتر نہیں جبکہ خواتین اور مرد مزدوروں کی اجرت میں فرق پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ تر مزدوروں کو باقاعدہ تحریری معاہدوں کے بغیر رکھا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے فیکٹری مالکان قانونی ذمہ داریوں سے بچ نکلتے ہیں اور مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین مزدوروں کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، حالانکہ کام کی نوعیت ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں کو یونین بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور ایسی کوشش کرنے پر انہیں نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ملک کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے اور اس شعبے میں مزدور حقوق سے متعلق مسائل پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں