پاکستان نے غزہ میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امن دستوں کی تعیناتی پر غور ممکن ہے۔28ویں ترمیم کی تیاری کہاں تک پہنچی اور تحریک انصاف کی گروپ بندی کی اصل حقیقت کیا ہے؟
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)غزہ میں مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے معاملے پر پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی وہاں فوجی دستے بھیجے گا، جبکہ صرف امن دستے کی تعیناتی کے مرحلے پر غور ممکن ہو سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر محمد مالک کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان محمد مالک نے کہا کہ رائٹرز کی رپورٹ میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورۂ واشنگٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا ذکر ہے، تاہم اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ پاکستان غزہ میں حماس یا دیگر گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے کسی مرحلے میں شامل نہیں ہوگا۔
محمد مالک کے مطابق سول اور عسکری قیادت اس نکتے پر متفق ہے کہ پاکستان کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنے گا جسے اسرائیل اور امریکہ مختلف زاویوں سے دیکھیں، چاہے اس کے سفارتی نتائج کچھ بھی ہوں۔
افغان علماء کا فتویٰ اور علاقائی صورتحال
محمد مالک نے بتایا کہ حالیہ دنوں افغان علما کے ایک بڑے اجتماع میں دہشت گردی کے خلاف دیا گیا فتویٰ پاکستان کے مؤقف کے مطابق ہے، جسے انہوں نے مستقبل کی بات چیت کے لیے ایک مثبت آغاز قرار دیا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترکی کے انٹیلی جنس چیف کا پاکستان کا مجوزہ دورہ مؤخر ہو گیا ہے اور افغانستان میں بعض کارروائیاں ترک درخواست پر مؤخر کی گئی تھیں۔
این ایف سی، مالی وسائل کی تقسیم اور صوبوں کے تحفظات
ریاستی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے پروگرام میں کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم اسی وقت ممکن ہوگی جب سیاسی جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی، مالی وسائل کی تقسیم اور صوبوں کے تحفظات جیسے معاملات پر وزیراعظم نے مذاکرات اور آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔
محمد مالک نے کہا کہ ماضی میں بھی حکومتیں آئینی ترامیم کے بارے میں انکار کرتی رہیں، مگر بعد میں وہ ترامیم آتی رہیں، اور اب بھی 28ویں ترمیم کا مسودہ زیرِ غور ہے جس کا تعلق براہِ راست بجٹ اور این ایف سی معاملات سے جڑا ہے۔
اڈیالہ جیل اور ملاقاتوں کا تنازع
اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ملاقاتیں قانون اور قواعد کے دائرے میں ہو سکتی ہیں اور سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر بعض ملاقاتیں مخصوص اوقات میں کرائی گئیں۔
پی ٹی آئی کی سینیٹر مشال یوسف زئی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے سیاسی ملاقاتوں، ڈاکٹروں تک رسائی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘یہ سب عمران خان کو خاموش کرانے کی کوشش ہے، لیکن وہ خاموش نہیں ہوں گے۔’
این ایف سی، پٹرولیم لیوی اور معاشی دباؤ
معاشی امور پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن کا معاملہ محض خواہشات سے حل نہیں ہو سکتا اور یہ ایک پیچیدہ آئینی اور مالی مسئلہ ہے۔
ان کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ صوبوں کو اضافی وسائل ملنے کے بعد ایف بی آر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں ہر سال اضافہ کرے گا، مگر ایسا نہیں ہو سکا اور آج بھی یہ شرح تقریباً وہیں کھڑی ہے۔
شہباز رانا نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس آمدن نہ بڑھنے کی صورت میں جی ایس ٹی کو کم کر کے پٹرولیم لیوی کا سہارا لیا، جس کے ذریعے گزشتہ سال تقریباً 1220 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔
ان کے مطابق اس وقت پٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 75 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ناقص انتظامات، لائن لاسز اور کم سبسڈی کے باعث سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور اگر یہ دباؤ بڑھا تو بجٹ سے مزید وسائل نکالے جائیں گے یا پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
محمد مالک کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ صرف ٹیکس بڑھانے کا نہیں بلکہ اخراجات کم کرنے اور انتظامی نااہلی پر قابو پانے کا ہےاوراگر چوری، ناقص ریکوری اور غیر ضروری ترقیاتی اخراجات پر قابو نہ پایا گیا تو این ایف سی میں کسی بھی تبدیلی کے باوجود عوام پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔

![غزہ میں امن دستوں کی تعیناتی پر پاکستان کا فیصلہ [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12516_2025-12-18_03-42-27.webp)









