پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ، سزا کی شرح صرف 1 فیصد

پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافے کے باوجود سزا کی شرح صرف ایک فیصد ہے، جو عدالتی نظام کی خامیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ، سزا کی شرح صرف 1 فیصد [Draft]

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافے کے باوجود سزا کی شرح صرف ایک فیصد ہے، جس سے متاثرین اور ان کے خاندان انصاف سے محروم رہتے ہیں جبکہ مجرموں کو مزید جرائم کا حوصلہ ملتا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق 2022 میں بچوں پر تشدد، ہراسانی، ریپ اور اغوا کے 4,253 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 4,213 اور 2024 میں 3,500 سے زائد تھی۔

پائیدار ترقیاتی تنظیم (SDO) کے مطابق 2024 میں بچوں پر ہراسانی، ریپ، تشدد اور اغوا کے 7,608 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 6,083 پنجاب میں تھے۔

تین برسوں کے دوران بچوں پر تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح صرف ایک فیصد رہی، جس سے پاکستان کے عدالتی نظام میں خامیاں واضح ہوتی ہیں۔ 15 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کی کہانی اس صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جو 2023 میں اسلام آباد میں ایک سول جج کی بیوی کے ظلم کا نشانہ بنی۔

کلینیکل ماہر نفسیات فاطمہ طاہر کے مطابق انصاف میں تاخیر، تصفیے کا دباؤ اور بھاری قانونی فیس متاثرہ بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، تربیت یافتہ تفتیشی افسران کی کمی، ناقابل بھروسہ گواہان، رشوت اور طویل عدالتی عمل کے باعث تشدد میں اضافہ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل چوہدری نصیر کمبوہ نے کہا کہ زیادہ تر کیسز ناکافی شواہد یا گواہوں کی عدم موجودگی کے باعث ناکام ہوجاتے ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے اعتراف کیا کہ پولیس کی ناقص تفتیش، کمزور پراسیکیوشن اور طویل عدالتی کارروائیاں انصاف کے سفر میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں