فضائی آلودگی اور گرمی مردانہ بانجھ پن میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، اسپرم کی تعداد اور معیار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
دنیا بھر میں فضائی آلودگی اور شدید گرمیوں کے باعث مردوں کی تولیدی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حالیہ عالمی تحقیق کے مطابق، مردوں کے اسپرم کی تعداد اور معیار میں کمی واقع ہو رہی ہے، جو تولیدی صحت کے لیے تشویشناک ہے۔
[نیویارک]: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متوازن خوراک، موٹاپا اور سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت بھی مردانہ قوتِ تولید میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر نیتی کاٹش کے مطابق، فضائی آلودگی میں شامل نقصان دہ ذرات اسپرم کی ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہارمون کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ زیادہ آلودہ علاقوں میں رہنے والے مردوں کے اسپرم کی حرکت پذیری میں کمی آئی ہے۔ چین اور اٹلی میں کی گئی تحقیقات کے مطابق، آلودہ شہروں میں رہنے والے مردوں کے اسپرم کا معیار دیہی علاقوں کے مقابلے میں 15 سے 25 فیصد کم تھا۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت بھی مردوں کی تولیدی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ جرنل آف تھرمل بایولوجی کی تحقیق کے مطابق، جسم کے مخصوص حصے کا درجہ حرارت بڑھنے سے اسپرم کی حرکت اور پیداوار میں 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گرمی اور آلودگی دونوں بڑھتے ہیں تو ان کے اثرات مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف فضائی آلودگی یا درجہ حرارت کا نہیں، بلکہ پانی کی کمی، نیند کی کمی اور ناقص خوراک بھی اس نقصان کو بڑھا سکتے ہیں۔











