نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وائرل تصاویر دراصل فنکارانہ مجسمے تھے، نہ کہ قدرتی فوسلز۔ انتظامیہ نے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔
کھٹمنڈو: (رائیٹ ناؤ نیوز) نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر دیوہیکل پتھروں کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ ان تصاویر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کروڑوں سال پرانے فوسلز ہیں، جو پہاڑوں سے بہہ کر آئے ہیں۔
یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔ تصاویر میں نظر آنے والے پتھر قدرتی فوسلز نہیں بلکہ نیپالی فنکاروں کے تیار کردہ مجسمے ہیں۔ یہ پتھر شالیگرام شیلا کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو جومسوم میں موجود ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور نیپال اکیڈمی آف فائن آرٹس نے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مجسمے وہاں پہلے سے موجود تھے اور ان کا حالیہ سیلاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا کے غلط معلومات پھیلانے کی ایک مثال ہے، جہاں بغیر تصدیق کے دعوے وائرل ہو جاتے ہیں۔ اس سے نیپال میں سیاحت کی اہمیت اور فنکاروں کی محنت بھی متاثر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ مجسمے نیپال اکیڈمی آف فائن آرٹس اور مقامی انتظامیہ کی کاوش کا نتیجہ ہیں، جو سیاحتی فروغ کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان مجسموں کی تیاری 2026 میں ایک ورکشاپ کے دوران کی گئی تھی۔















