سانلیورفا کے قریب 11 ہزار سال پرانا مجسمہ دریافت ہوا، جو قدیم انسانی بستیوں کی تفہیم کو نئی شکل دے سکتا ہے۔
ترکیہ: (رائیٹ ناؤ نیوز) ماہرین آثار قدیمہ نے ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں 11 ہزار سال پرانا پتھر کا مجسمہ دریافت کیا ہے۔ یہ مجسمہ ایک انسانی شخصیت کو تیندوے کی پشت پر بیٹھے ہوئے دکھاتا ہے، جو قدیم انسانی بستیوں کی تفہیم کو نئی شکل دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ دریافت سانلیورفا شہر کے قریب کارہانٹیپے میں کھدائی کے دوران ہوئی۔ مجسمہ کی لمبائی 70 سینٹی میٹر ہے اور اسے ایک جامع مجسمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ثقافت اور سیاحت کے وزیر مہمت نوری ایرسوئے نے کہا کہ مجسمہ ایک 3 میٹر قطر کے ڈھانچے کی دیوار کے ساتھ بینچ پر پایا گیا، جس کا فرش چپٹے پتھروں سے بنا ہوا تھا۔
یہ دریافت ترکیہ کے ہیریٹیج ٹو دی فیوچر پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں آثار قدیمہ کی تحقیق اور تحفظ کو بڑھانا ہے۔ اس دریافت سے انسانی تاریخ کی نئی جہات سامنے آ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پروجیکٹ ترکیہ میں قدیم مقامات کی کھدائی اور ان کے تحفظ کے لئے جاری ہے، جس سے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔












