پاس کیز اور بائیو میٹرک تفصیلات کے ساتھ پن کوڈ کا استعمال، پاس ورڈز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے پاس ورڈ اور پن کوڈ دونوں اہم ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں زیادہ محفوظ کون ہے۔
پاس ورڈز کو متعدد آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پن کوڈ مقامی ڈیوائس تک محدود ہوتا ہے۔ پن کوڈ کو ریموٹلی استعمال نہیں کیا جا سکتا، اس لحاظ سے یہ زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاس کیز اور بائیو میٹرک جیسے جدید طریقے پن کوڈ کے ساتھ زیادہ محفوظ ہیں۔ پاس کیز انٹرنیٹ پر ٹرانسمیٹ نہیں ہوتیں، جبکہ پاس ورڈز سرورز پر محفوظ ہوتے ہیں۔
پن کوڈز کی حفاظت کے لیے انکرپشن اہم ہے۔ ہیکرز کو پن کوڈ تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، جبکہ پاس ورڈز کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ سادہ پن کوڈ جیسے 1234 کو استعمال نہ کریں، ورنہ حفاظتی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مضبوط پن کی تشکیل ضروری ہے۔















