خلیجی ممالک میں امریکا ایران جنگ کی ناکامی پر مایوسی بڑھ گئی، فوجی اڈوں کی میزبانی پر غور۔ سعودی عرب، ترکیے، پاکستان معاہدہ امریکا کے لیے اشارہ ہے۔
خلیجی ممالک: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا ایران جنگ میں مؤثر سفارت کاری کی ناکامی پر خلیجی اتحادی صدر ٹرمپ سے مایوس ہونے لگے ہیں۔ یہ ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی حکومتوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے طرزعمل پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کے لیے ضروری سفارتی عمل کو مؤثر طریقے سے آگے نہیں بڑھا سکے۔
کئی خلیجی ممالک نے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ جاری جنگ اور ایران کے میزائل و ڈرون حملوں کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اڈے کس حد تک فائدہ مند ہیں۔
خلیجی ممالک اب بھی امریکا کو قریبی سکیورٹی شراکت دار سمجھتے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث متبادل سکیورٹی انتظامات پر غور کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک نے متبادل راستے بھی تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو امریکا کے لیے اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ خلیجی ممالک کی امریکا سے بڑھتی ہوئی ناراضی کا مظہر ہے۔














