پروفیسر رابرٹ پیپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں پھنسے امریکی صدر ٹرمپ کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں۔ مزید فوجی کارروائیوں کا خطرہ برقرار ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ایک خطرناک عسکری صورتحال میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ختم کرنا یا اسے مزید بڑھانا دونوں ہی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر پیپ نے عرب میڈیا کو بتایا کہ ایران پر امریکی فضائی اور بحری حملوں سے وقتی فوجی کامیابیاں تو ملی ہیں لیکن اسٹریٹجک مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور یہ امریکی صدر کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
رابرٹ پیپ کے مطابق امریکی صدر کے پاس دو ہی راستے ہیں: ایران کے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کے بعد جنگ ختم کرنے کی کوشش یا جنگ کو مزید وسعت دینا۔ انہوں نے کہا کہ مزید فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ کے دائرے کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔
پروفیسر پیپ نے خدشہ ظاہر کیا کہ فضائی اور بحری طاقت کے محدود نتائج کے سبب ٹرمپ زمینی کارروائی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق زمینی کارروائی ایران کے ساتھ تنازع کو خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی۔














