اوریگن: 13 سالہ طالب علم کی ہوا سے پانی تیار کرنے والی مشین، زراعت میں انقلابی قدم

اوریگن کے 13 سالہ روئے کم نے ہوا سے پانی بنانے والی مشین تیار کی، زراعت میں انقلابی قدم۔ یہ ایجاد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
اوریگن: 13 سالہ طالب علم کی ہوا سے پانی تیار کرنے والی مشین، زراعت میں انقلابی قدم

اوریگن: (رائیٹ ناؤ نیوز) دنیا بھر میں پانی کی قلت کے مسئلے کے دوران، اوریگن کے 13 سالہ طالب علم روئے کم نے ایک ایسی جدید مشین تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو پانی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ایجاد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے ہے۔

وٹ فورڈ مڈل سکول کے طالب علم روئے کم کی اس ایجاد کو 2026 کے تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج کے ٹاپ 10 فائنلسٹس میں شامل کیا گیا ہے۔ مشین بجلی کی مدد سے نمی کو پانی میں تبدیل کرتی ہے، جو زراعت کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ مشین ایک الیکٹرانک آلے کی مدد سے گرم اور ٹھنڈا ہوتی ہے، جس سے ہوا کی نمی پانی میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مشین میں مٹی کی نمی اور موسم کا حال بتانے والے سینسر بھی شامل ہیں جو پانی کی ضرورت کا تعین خود کرتے ہیں۔

آزمائش کے دوران مشین نے دو گھنٹے میں 10 ملی لیٹر پانی تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے مزید تحقیق کی متقاضی ہے۔ کسانوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں پانی کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج امریکہ میں نوجوانوں کو سائنس کے ذریعے مسائل کے حل کی ترغیب دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ روئے کم نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی ایجاد زراعت کے نئے طریقوں کو فروغ دے گی اور وہ مستقبل میں انجینئرنگ میں مزید کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں