6 جی ٹیکنالوجی کی نئی صلاحیتیں ریڈار جیسی ہیں، مریضوں کی نگرانی اور قدرتی آفات میں مددگار ہو سکتی ہیں، لیکن پرائیویسی خدشات بھی موجود ہیں۔
دنیا بھر میں 6 جی موبائل نیٹ ورک پر تحقیق جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی تیز رفتار انٹرنیٹ کے علاوہ اردگرد موجود لوگوں، اشیا اور ان کی نقل و حرکت کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ‘انٹیگریٹڈ سینسنگ اینڈ کمیونیکیشن’ (آئی ایس اے سی) کہلاتی ہے۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے اسے آئندہ نسل کے موبائل نیٹ ورکس کے اہم استعمالات میں شامل کیا ہے۔
جرمنی کے ڈیٹا پروٹیکشن حکام نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ 6 جی ٹیکنالوجی کی بدولت وائرلیس آلات ریڈار سینسر کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اسمارٹ فونز اور وائی فائی پوائنٹس شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی مریضوں کی سانس اور حرکات کی نگرانی، قدرتی آفات کے بعد امدادی کاموں میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اس کے استعمالات وسیع ہیں لیکن پرائیویسی مسائل پر توجہ ضروری ہے۔
یاد رہے کہ 6 جی کی ریڈیو ٹیکنالوجیز ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ آئی ایم ٹی-2030 کے فریم ورک کے تحت مختلف ممالک اس کی منظوری کے عمل میں ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دہائی کے اختتام تک حتمی شکل اختیار کر لے گی۔















