اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ٹیلی نار کے تمام اثاثے یوفون کو منتقل ہوں گے اور یہ عمل عوامی مفاد کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون) کے انضمام کی منظوری دے دی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے یہ فیصلہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت جاری کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ٹیلی نار کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات یوفون کو منتقل ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان تحلیل شدہ تصور کی جائے گی۔
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) میں جمع کرائی جائے۔ رجسٹرار کو اسکیم پر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انضمام کی اسکیم پر عملدرآمد کے دوران قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے مکمل کیے جائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کا کردار نگران نوعیت کا ہے اور قانونی شرائط کی جانچ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے ریکارڈ اور مجوزہ اسکیم کا جائزہ لے کر قرار دیا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کی تمام شرائط پوری کی گئی ہیں۔ انضمام عوامی مفاد کے خلاف نہیں ہے، اس لیے اسکیم کی منظوری دی گئی ہے۔















