وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے مونال اور نسلہ ٹاور کیسز کے فیصلے کالعدم قرار دیے۔ عدالتی دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) وفاقی آئینی عدالت نے حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے مونال ریسٹورنٹ اور نسلہ ٹاور کے فیصلے کالعدم قرار دیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
سپریم کورٹ کے مونال ریسٹورنٹ کے مسماری کے فیصلے کو تین رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قانونی پہلوؤں کو نظرانداز کیا۔
نسلہ ٹاور کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو واپس لیا۔ عدالت نے کہا کہ زمین کا انتظام صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔ آئینی تشریحات اور بنیادی حقوق کے مقدمات اب اسی عدالت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ماضی میں بھی نظرثانی ہوتی رہی ہے۔ بھٹو کیس سمیت دیگر اہم کیسز میں عدالت نے نظرثانی کی تھی۔












