مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر بجٹ میں تاخیر کی تنقید کی، جس سے کاروباری طبقے میں تشویش اور سٹاک مارکیٹ پر اثر پڑا۔
پشاور: (رائیٹ ناؤ نیوز) خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر بجٹ نہ بنانے کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس عین وقت پر ملتوی کیا گیا، جس سے معاملات میں تاخیر ہو رہی ہے۔
مزمل اسلم نے بتایا کہ سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس 21 مئی کے بجائے یکم جون کو ہوا، جس سے کاروباری طبقے میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ اس کا اثر سٹاک مارکیٹ پر بھی نظر آ رہا ہے۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ حکومت کے لئے آئی ایم ایف سے اوور کمٹمنٹ کا مسئلہ ہے اور اخراجات کنٹرول نہیں ہو رہے۔ اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کو 430 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے۔ وفاق چاہتا ہے کہ صوبے زراعت اور پراپرٹی سیکٹر سے ٹیکس اکٹھا کریں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بجٹ کی تیاری کا عمل اکثر سیاسی اور مالی مشکلات سے گزر رہا ہے، جس سے کاروباری طبقے اور عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔













