سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز نے بچوں کی صحت کو سنگین خطرات میں ڈال دیا ہے، مؤثر حفاظتی اقدامات کی کمی سے مسئلہ مزید بگڑ رہا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) سندھ میں ایچ آئی وی کے 4 بڑے آؤٹ بریکس کے دوران سیکڑوں بچے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
2016 میں لاڑکانہ میں ڈائیلیسس کے مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا واقعہ سامنے آیا۔ اس کے بعد 2019 میں رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا ہولناک آؤٹ بریک ہوا، جس میں 1000 سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
عالمی ادارہ صحت نے ان واقعات کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ مئی 2026 میں خیرپور میں بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ جاری ہے۔ نظامی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں 2010 کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 4.3 گنا اضافہ ہوا ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین نے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔















