باقر قالیباف نے کہا کہ عملی اقدامات ہی اصل معیار ہیں، امریکا ایران مفاہمتی یادداشت میں تبدیلیاں زیر غور ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ہمیں وعدوں اور گارنٹیوں پر کوئی اعتبار نہیں، ہمارے لیے عملی اقدامات ہی اصل معیار ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ جب تک دوسرا فریق عملی قدم نہیں اٹھاتا، ہم بھی کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق، کسی معاہدے کا اصل فاتح وہ ہوتا ہے جو جنگ کی تیاری میں بہتر ہو۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، امریکا ایران مفاہمتی یادداشت میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، مگر مسودہ ابھی فائنل نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق کچھ اقدامات کیے جائیں گے۔
برطانوی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور 12 ارب ڈالر کے اثاثے ریلیز کرنے کی تجویز شامل ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی صدر نے متبادل درآمدی راستوں کے انتظام کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پاکستان، روس اور آذربائیجان کے ساتھ تجارتی راستوں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا ہے۔













