یورپی پارلیمنٹ نے طالبان کے عدالتی نظام کو خواتین کے استحصال پر مبنی قرار دیا ہے اور مزید پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
برسلز: (رائیٹ ناؤنیوز) یورپی پارلیمنٹ نے 480 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے طالبان کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد انتہاپسند پالیسیوں اور فوجداری ضابطے کے خلاف پیش کی گئی تھی۔
اعلامیے کے مطابق، اراکین پارلیمنٹ نے طالبان کے عدالتی نظام کو خواتین کے استحصال اور صنفی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔ قرارداد میں طالبان کی فوجداری پالیسیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یورپی پارلیمنٹ نے رکن ممالک کو طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ، طالبان رہنماؤں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
یہ قرارداد اس لیے اہم ہے کہ اس سے طالبان پر عالمی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ یورپی ادارے انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ طالبان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد اس تناظر میں اہم قدم ہے۔














