ایران نے کہا ہے کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کے بغیر معاہدہ ممکن نہیں، جبکہ امریکا مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
تہران: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایرانی نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ امریکا مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور اپنا مؤقف تبدیل کر رہا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ریڈ لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ایران نے کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔ اسی مسئلے پر اختلافات کسی حتمی معاہدے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران صرف کاغذی وعدوں کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق، ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی اقدام قبول نہیں کیا ہے۔ جوہری مذاکرات کے لئے 60 دن کی مدت مقرر کی جائے گی، اور آبنائے ہرمز سے متعلق 30 دن کی مدت ہوگی۔
اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے کی حالت میں نہیں آئے گی۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی پہلی قسط جاری کرنے کی شرط شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا ایران مفاہمتی مسودے میں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔ جواب میں ایران بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کرے گا۔













