اسلام آباد مذاکرات کا بڑا سوال، کیا ایران واقعی دوسرے دور میں شریک ہو گا؟

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں صدور اسلام آباد آسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکا، ایران مذاکرات کی کامیابی پر صدور اسلام آباد آسکتے ہیں

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات پر غیر یقینی بڑھ گئی ہے، کیونکہ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ فی الحال مزید مذاکرات کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ ابھی تک اگلے دور کی بات چیت کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندوں کی پاکستان آمد متوقع ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچیں گے۔ تاہم ایران نے ابھی تک نئے وفد کی روانگی کی تصدیق نہیں کی، جس کے باعث دوسرے دور کے انعقاد پر سوالات بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی حکومت کے مطابق موجودہ حالات، خصوصاً بحری ناکہ بندی، باہمی الزامات اور جنگ بندی سے متعلق تنازع، نئے مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تہران کے نزدیک ماحول فی الحال مثبت نہیں، اسی لیے پاکستان بھیجے جانے والے ممکنہ وفد کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق، ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ امریکی نمائندے بھی مذاکرات کے لیے کل پاکستان پہنچیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا بدھ کو جنگ بندی میں توسیع کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر سکتے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینلنے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان اسلام آباد آ سکتے ہیں۔ دونوں رہنما اسلام آباد اعلامیے پر دستخط کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ مذاکرات بڑے پیمانے پر اہمیت رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں