لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا گریڈ 17 افسران کی مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا، یہ سہولت قانونی یا بنیادی حق نہیں ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا اور پاور کمپنیوں کے گریڈ 17 کے افسران کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ سہولت قانونی یا بنیادی حق نہیں ہے۔
جسٹس اقبال وینس نے گیپکو انجینئرز اینڈ آفیسر ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو مالی و انتظامی پالیسی کے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ فری بجلی یونٹس کوئی قانونی حق نہیں ہیں اور انہیں پالیسی کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے مالی مسائل اور سرکلر ڈیٹ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا۔
عدالت نے کہا کہ واپڈا میں گریڈ ایک تا سولہ کے ملازمین کو فری یونٹس ملتے ہیں جبکہ گریڈ 17 کے افسران کے لیے یہ سہولت ختم کرنا امتیازی نہیں۔ یہ یونٹس رقم کی صورت میں تنخواہ میں شامل کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 2023 میں نوٹیفکیشن کے ذریعے فری بجلی یونٹس ختم کر کے فکس رقم مختص کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی۔













