امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دی اکنامسٹ کے مطابق یہ فیصلہ ان کی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی جریدے دی اکنامسٹ کے مطابق ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ اس جنگ کا آغاز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
دی اکنامسٹ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں جاری جنگ کا خاتمہ سیز فائر سے ہوا، تو سب سے بڑی شکست امریکی صدر ٹرمپ کو ہوگی۔ یہ جنگ امریکی طاقت کو چلانے کے نئے طریقے کے لیے صدر ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے بھرپور بیانات ان کی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش ہیں۔ ان کے تین بڑے مقاصد، مشرق وسطیٰ کو محفوظ بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ اور ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا، پورے نہیں ہو سکے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کی وجوہات ہیں، جیسے کہ پابندیوں کا خاتمہ اور توانائی و نقل و حمل کے نظام کی تباہی۔ ایران کے رہنما مذاکرات کے حق میں ہیں کیونکہ امریکا مسلسل حملے کے لیے اپنی فوج تیار نہیں رکھ سکتا۔
واضح رہے کہ دی اکنامسٹ نے کہا کہ یہ جنگ جوہری خطرے کو بڑھا سکتی ہے، اور امریکا میں اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہو رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی، جس نے امریکا کی طاقت کو کمزور کیا۔













