پاکستان کا عوامی قرضہ قانونی حد سے 17 کھرب روپے تجاوز کر گیا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 70.7 فیصد تک پہنچ گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ پارلیمنٹ کی مقررہ قانونی حد سے 17 کھرب روپے زائد ہوگیا ہے، جبکہ قرضہ جی ڈی پی تناسب 70.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ انکشاف قرضہ پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 میں کیا گیا ہے جو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عوامی قرضے کی زیادہ سے زیادہ اجازت شدہ حد 56 فیصد جی ڈی پی تھی، لیکن مالی سال 2024-25 میں قرضہ اس حد سے 16.8 کھرب روپے یا 14.7 فیصد جی ڈی پی زیادہ رہا۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ بلند قرضہ سطح سالانہ بجٹ کا تقریباً نصف حصہ کھا رہی ہے، جس سے ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش محدود ہوگئی ہے۔
قرضہ پالیسی اسٹیٹمنٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے اندرونی قرضوں کی مدت بڑھا کر ری فنانسنگ رسک میں کمی کی ہے، تاہم بیرونی قرضوں کی مدت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ کمرشل قرضوں میں اضافہ ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو مالی سال کے پہلے سات ماہ میں نظرثانی شدہ اہداف حاصل نہ کر سکا۔ جولائی تا جنوری کے دوران ٹیکس وصولیاں 7.174 کھرب روپے رہیں، جو ہدف سے 347 ارب روپے کم تھیں۔
مالیاتی پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 کے مطابق وفاقی مالیاتی خسارہ بھی پارلیمنٹ کی مقررہ محتاط حد سے 2.7 فیصد جی ڈی پی زیادہ رہا۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ درمیانی مدت میں مالیاتی استحکام، بنیادی سرپلس اور خسارہ کم کرنے کے اقدامات کے ذریعے قرضہ پائیدار سطح پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔















