پاکستانی حکام نے داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم کو گرفتار کر لیا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستانی حکام نے مئی میں پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب کارروائی کرتے ہوئے داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کو گرفتار کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں اس گرفتاری کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلطان عزیز عزام کی گرفتاری نے داعش خراسان کی خطے میں کارروائیوں کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان کی گرفتاری کے بعد داعش خراسان کے پروپیگنڈا ادارے العزام فاؤنڈیشن کا پراپیگنڈہ نیٹ ورک بھی ختم ہو گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام نے داعش خراسان کے خلاف کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں کی ہیں۔مئی 2025 میں سلطان عزیز اعظّام اور سینئر رہنما ابو یاسر الترکی کی گرفتاری جیسے اقدامات کے نتیجے میں تنظیم کی آپریشنل طاقت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ان کارروائیوں کے باعث “وائس آف خراسان” جیسے اہم پراپیگنڈا پلیٹ فارمز بھی معطل ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان سرحد کے دونوں طرف آزادی سے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ کابل کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی عدم موجودگی کے دعوےجھوٹ قرار دیے گئے ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے دسمبر 8 کو ایک خط میں اس رپورٹ کے ذریعے سلامتی کونسل کی توجہ دلانے کا مطالبہ کیا۔
سلطان عزیز اعظم 2015 سے داعش خراسان کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے تھے اور انہوں نے کئی اہم حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

![پاکستانی حکام نے داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم گرفتار کر لیا [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12935_2025-12-18_20-50-44.webp)












