مریم نواز بمقابلہ سہیل آفریدی۔۔۔ کون آگے؟

لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے جبکہ سیاسی اور ماحولیاتی بحران بھی جاری ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، سیاسی اور ماحولیاتی بحران [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور کے دنیا کا آلودہ ترین شہر بننے، فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے، موسمیاتی تبدیلی، صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان سیاسی بیان بازی اور بڑے شہروں میں صفائی و بنیادی سہولتوں کی ابتر صورتحال پرمعروف صحافی حامد میر کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بطور مہمان شریک ہوئے۔

لاہور فضائی آلودگی میں سرفہرست

حامد میر نے بتایا کہ عالمی ادارے آئی کیو ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور اس وقت فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کا سرفہرست شہر بن چکا ہے، دوسرے نمبر پر کولکاتہ جبکہ کراچی دسویں نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف موسمیاتی گرد و غبار ہے تو دوسری جانب سیاسی گرد و غبار بھی ہے، جہاں حکومتی شخصیات ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔

صوبائی قیادت کی لفظی جنگ

پروگرام میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بارہ سالہ حکومت کے بعد صوبہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنے کے بجائے اسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی کا بیان شامل کیا گیا ۔سہیل آفریدی کے مطابق، ‘ایک مینڈیٹ چور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مجھے مشورے دے رہی ہیں، حالانکہ تازہ سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس ملک کا سب سے کرپٹ ادارہ قرار دی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کے شعبے میں سب سے زیادہ فی کس سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔’

لاہور: ترقیاتی منصوبے اور شہری مشکلات

جیو نیوز لاہور سے امِ فروا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث سڑکیں کھدی ہوئی ہیں، گرد و غبار میں اضافہ ہو چکا ہے اور شہری کھانسی، نزلہ اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق روزمرہ زندگی اور کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور موسیٰ رضا نے کہا،
’تمام ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے ہیں اور ان کا مقصد لاہور کی بہتر امیج بحال کرنا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں متاثر ہو چکی تھی۔‘

طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث اسپتالوں کی ایمرجنسی اور او پی ڈیز میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ برونکائٹس کے مریضوں کا تناسب دس سے بیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

پشاور: صفائی اور آلودگی کی صورتحال

جیو نیوز پشاور سے شیبا حیدر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور میں صفائی کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ شہر میں جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر، بند نالیاں اور گندگی شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق گندگی کے باعث پیٹ اور آنتوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں جبکہ مچھروں کی افزائش سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پر وفاقی وزیر کا مؤقف

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا،’فضائی آلودگی کے کئی بڑے عوامل ہیں، جن میں ٹرانسپورٹیشن، پرانے بھٹے اور فصلوں کی باقیات جلانا شامل ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیاں اور بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی آلودگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح پر گرین فنانسنگ کے لیے پاکستان کا مقدمہ پیش کر رہی ہے اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے عالمی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔

شوکت یوسفزئی کا ردعمل

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا،’خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے بعد شدید مسائل ورثے میں ملے، تاہم صفائی کے لیے ڈبلیو ایس ایس پی قائم کی گئی، نئے ملازمین بھرتی کیے جا رہے ہیں اور پشاور کے لیے صاف پانی کے بڑے منصوبے منظور ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ این ایف سی اور این ایچ پی کی مد میں صوبے کے واجبات کی عدم ادائیگی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ہے۔

کراچی: پانی، صفائی اور بلدیاتی چیلنجز

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا،
‘کراچی کے مسائل کو صرف تنقید سے حل نہیں کیا جا سکتا، تعمیری گفتگو اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر پر کام ہو رہا ہے، مگر شہر کی آبادی اور وسائل کے دباؤ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔’

انہوں نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ نوے فیصد کراچی والے پانی خرید کر پیتے ہیں، کیونکہ شہر کے متعدد علاقوں میں باقاعدہ پانی کی فراہمی موجود ہے۔

کوئٹہ میں صفائی کا بحران

جیو نیوز کوئٹہ سے سلمان اشرف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر میں کچرے کے ڈھیر، ابلتے گٹر اور سیوریج کا پانی کاروباری سرگرمیوں اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ بلدیہ حکام کے مطابق نجی کمپنی کے ذریعے صفائی کا عمل جاری ہے تاہم مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے اور ڈی پورٹیشن کا معاملہ

پروگرام کے اختتام پر حامد میر نے بتایا کہ ایف آئی اے نے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ ہزاروں پاکستانی بیرون ملک بھیک مانگنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث ڈی پورٹ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب سے 24 ہزار، متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار اور آذربائیجان سے بڑی تعداد میں پاکستانی واپس بھیجے گئے ہیں، جبکہ کمبوڈیا اور میانمار جانے والے کئی افراد تاحال واپس نہیں آئے۔

حامد میر نے کہا کہ بیرون ملک غیر قانونی سرگرمیاں نہ صرف افراد بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں