عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غیر مساوی دولت کی تقسیم برقرار ہے، امیر ترین افراد کل دولت کا بڑا حصہ کنٹرول کرتے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی رپورٹ "ورلڈ ان ایکویلیٹی رپورٹ 2026” میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے امیر ترین 10 فیصد افراد کل آمدنی کا 42 فیصد اور کل دولت کا 59 فیصد کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ غریب ترین نصف افراد صرف 19 فیصد آمدنی میں حصہ دار ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امیر ترین 1 فیصد افراد کے پاس کل دولت کا 24 فیصد موجود ہے، جو ملک میں دولت کی غیر متوازن تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں فی کس اوسط آمدنی تقریباً 4,200 یورو اور اوسط دولت 15,700 یورو تخمیناً ہے۔
گذشتہ دہائی میں آمدنی کی تقسیم میں معمولی بہتری ہوئی ہے۔ 2014 سے 2024 کے درمیان امیر ترین 10 فیصد اور غریب ترین 50 فیصد کے درمیان فرق 22 سے کم ہو کر 21.4 رہ گیا ہے۔
رپورٹ میں صنفی تفاوت بھی نمایاں کی گئی ہے، جس کے مطابق خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت دوران مدت کم ہو کر 9.8 فیصد سے 8.5 فیصد ہو گئی ہے، جو خواتین کی اقتصادی شمولیت کی محدودیت کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی صورتحال شدید ہے۔ دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد باقی 90 فیصد سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین نصف افراد کے حصے میں صرف 10 فیصد سے کم آمدنی آتی ہے۔ دولت کی تقسیم میں فرق اور زیادہ نمایاں ہے، اوپر کے 10 فیصد کے پاس عالمی دولت کا تقریباً تین چوتھائی حصہ موجود ہے، جبکہ نیچے کے نصف افراد کے پاس صرف 2 فیصد دولت ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 0.001 فیصد افراد کے پاس دنیا کے غریب ترین نصف افراد سے زیادہ دولت ہے، ان کا عالمی دولت میں حصہ 1995 میں تقریباً 4 فیصد تھا، جو آج 6 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ یہ رپورٹ ورلڈ ان ایکویلیٹی لیب نے شائع کی ہے، جو عالمی اقتصادی ماہرین اور سماجی سائنسدانوں کے تعاون سے تیار کی گئی۔

![پاکستان میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم برقرار، امیر طبقے کا دولت پر قبضہ۔ عالمی رپورٹ کا انکشاف [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11844_2025-12-16_09-38-28.webp)












