بچے کا پیدائش کے فوراً بعد رونا فطری عمل ہے جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہے، جبکہ مسکراہٹ اور ہنسی دماغ کے ارتقاء کے بعد آتی ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بچے کی پیدائش کے بعد اس کی پہلی چیخ والدین کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے، تاہم یہ آواز طبّی سائنس کے مطابق زندگی کا پیغام ہوتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کا رونا فطری عمل ہے جو اسے نئی دنیا میں زندہ رہنے کے قابل بناتا ہے۔
نومولود کا دماغ اور اعصابی نظام ارتقائی مراحل میں ہوتے ہیں، اسی لیے ہنسی یا مسکراہٹ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ رونا دماغ کے اُس حصے سے جڑا ہوتا ہے جو حمل کے دوران ہی تیار ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق پیدائش کے وقت زوردار آواز کے ساتھ رونا صحت کی اچھی علامت ہے، جو پھیپھڑوں کی ہوا بھرنے اور جسم میں آکسیجن کی روانی کی نشاندہی کرتا ہے۔
نومولود کے پاس رونے کے علاوہ اظہار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا۔ رونا اس کی پہلی زبان بن جاتی ہے۔ قدرت نے اس عمل کے ذریعے بچے کو والدین اور ماحول کے ساتھ جوڑنے کا نظام بنایا ہے۔ بھوک، سردی، تکلیف یا توجہ کی ضرورت، ہر پیغام اسی آواز کے ذریعے پہنچتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق رونا دماغ کے بنیادی حصے برین اسٹیم سے منسلک ہوتا ہے، جبکہ مسکراہٹ اور ہنسی کا تعلق دماغ کے اعلیٰ حصوں سے ہے۔ مسکراہٹ عموماً چھ سے آٹھ ہفتوں میں اور ہنسی تین سے چار ماہ کی عمر میں سنائی دیتی ہے۔
ابتدائی مہینوں میں رونا معمول کی سرگرمی ہے، جو بچے کی بقا کی ترجیح ہوتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، رونے کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور خوشی کے تاثرات ابھرنے لگتے ہیں۔

![پیدا ہوتے ہی بچے کے رونے کی اہمیت اور وجوہات [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11773_2025-12-16_09-42-52.webp)













