ملک میں سیاسی کشیدگی، عدالتی بحران اور معاشی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اسلام آباد: (رائٹ ناؤ نیوز) 92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ میں میزبان ربیعہ حسن نے سینئر صحافی عامر متین کے ساتھ ملک کی سیاسی صورتحال، عدالتی نظام میں پیدا ہونے والے بحران، وکلاء سیاست اور معیشت سے جڑے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔
پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل چوہدری اور سینئر صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی بطور مہمان شریک ہوئے، جبکہ پروگرام کے دوسرے حصے میں معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سرد موسم میں گرم ہوتی سیاست
پروگرام کے آغاز میں ربیعہ احسن نے نشاندہی کی کہ سرد موسم کے باوجود سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے ڈی چوک جانے کے اعلان اور ’’آزادی یا کفن‘‘ کے بیانیے نے احتجاجی سیاست کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ پروگرام میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے کے معاملے پر آیا احتجاج کیا جائے گا یا مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اسی تناظر میں عامر متین نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہونے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کے حوالے سے حکومتی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
ڈگری کیس: عدالتی وقار اور تنازع
گفتگو کا مرکزی حصہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ڈگری سے متعلق کیس رہا۔ عامر متین نے کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ’’جعلی ڈگری کیس‘‘ کی اصطلاح خود یہ تاثر قائم کرتی ہے کہ معاملہ طے ہو چکا ہے، حالانکہ ابھی یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ ڈگری جعلی ہے یا نہیں۔
عامر متین کے مطابق زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے محض ’’ڈگری کیس‘‘ کہا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، وہ ہائی کورٹ کی سطح کے بجائے ’’اسکول کے بچوں کی لڑائی‘‘ جیسا محسوس ہوتا ہے، جو عدالتی وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی ادارے، خصوصاً آئی ایم ایف، پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی ایک بڑی وجہ رول آف لا اور جوڈیشل انٹیگریٹی کے فقدان کو قرار دے رہے ہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری کے اعتراضات
پروگرام میں بتایا گیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ پر مفاد کے ٹکراؤ کا اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ چیف جسٹس کی تقرری کے خلاف اپیل زیرِ التواء ہونے کے باعث وہ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دو رکنی بینچ کی تشکیل پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے ان کا انٹر کورٹ اپیل کا حق متاثر ہوا۔
جسٹس طارق جہانگیری کے حوالے سے بتایا گیا کہ، ’’کراچی یونیورسٹی نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میری ڈگری جعلی ہے، اس کے باوجود اسے جعلی ڈگری کیس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘
جسٹس جہانگیری نے عدالت میں مزید کہا،’’مجھے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، یہ چونتیس سال پرانا معاملہ ہے، اور بغیر مکمل دستاویزات کے مؤقف دینا ممکن نہیں۔‘‘
اسی تناظر میں ان کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا،’’اگر پنڈورا باکس کھل گیا تو سب کی پگڑیاں اچھلیں گی۔‘‘
فیصل چوہدری کا قانونی مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل چوہدری نے کہا کہ ایک حاضر سروس جج کا اس طرح عدالت میں اپنے دفاع کے لیے پیش ہونا نہایت افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق آئین میں ججز کے احتساب کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے، جو آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلق ہے۔
فیصل چوہدری نے کہا ، ’’جب ایک جج اپنی نوکری کے تحفظ کے لیے عدالت کے سامنے کھڑا ہو جائے تو اس سے پورے عدالتی نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ اگر ججز خود غیر محفوظ ہوں گے تو عام شہری کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟‘‘
سلیکٹو اکاؤنٹیبلٹی اور عدالتی بحران
سینئر صحافی ماجد نظامی نے کہا کہ اس پورے معاملے کی جڑ ’’سلیکٹو اکاؤنٹیبلٹی‘‘ ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی ڈگری جعلی ثابت ہوتی ہے تو احتساب صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
ماجد نظامی نے کہا، ’’اگر چونتیس سال تک ایک شخص وکالت کرتا رہا، جج بنا، اور سینئر جج کے منصب تک پہنچ گیا تو اس کا مطلب ہے کہ جوڈیشل کمیشن، بار کونسلز اور اسکرونٹی کے تمام مراحل پر سوال اٹھتا ہے۔ ایک فرد کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔‘‘
رائٹ ٹو انفارمیشن کا مسئلہ اور معلومات کیوں روکی جا رہی ہیں؟
گفتگو کے دوران عامر متین نے بحث کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے مسئلے کی طرف موڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ریاست شفافیت کے دعوے کر رہی ہے تو بنیادی معلومات تک رسائی کیوں ممکن نہیں بنائی جا رہی۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب آئی ایم ایف اپنی رپورٹ میں واضح طور پر یہ نشاندہی کر رہا ہے کہ پاکستان میں ادارے رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین پر عمل درآمد نہیں کر رہے، تو پھر حکومت اور ریاستی ادارے اس معاملے میں سنجیدہ کیوں نہیں۔
ماجد نظامی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن پاکستان میں صرف ایک رسمی قانون بن کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً ہر سرکاری ادارہ معلومات نہ دینے کے لیے دو مستقل بہانے استعمال کرتا ہے: ’’پرائیویسی‘‘ اور ’’قومی سلامتی‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اکثر معاملات میں یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ جس معلومات کو روکا جا رہا ہے، وہ واقعی قومی سلامتی یا ذاتی رازداری کے زمرے میں آتی بھی ہے یا نہیں، مگر اس کے باوجود ادارے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
بار کونسل اور وکلاء سیاست
عامر متین نے پاکستان بار کونسل کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بار کونسل کے نتائج کو محض ایک فرد یا ایک الزام کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ وکلاء سیاست میں مجموعی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں وکلاء برادری کو ایک مزاحمتی اور متحرک قوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اب بار کونسل کی سیاست زیادہ تر مینجمنٹ، گروپنگ اور ادارہ جاتی قربت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
عامر متین نے کہا کہ آج بار کونسلز میں وہ ماحول نظر نہیں آتا جو ماضی میں عدلیہ کی آزادی یا آئینی بحرانوں کے وقت سامنے آتا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ بڑے سیاسی اور آئینی معاملات پر وکلاء کی اجتماعی آواز کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتِ حال صرف تحریک انصاف یا کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ مجموعی طور پر وکلاء سیاست کے کردار میں آنے والی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات عدالتی نظام اور جمہوری عمل دونوں پر پڑ رہے ہیں۔
بار کونسل انتخابات اور قاضی انور کا معاملہ
پروگرام میں پاکستان بار کونسل کے حالیہ انتخابات کا بھی ذکر ہوا۔ بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر قاضی انور نے اپنی شکست کی ذمہ داری پارٹی قیادت، خصوصاً سلمان اکرم راجہ اور حامد خان پر عائد کی، اور اندرونی سازش، مشاورت کے فقدان اور امیدواروں کی منظم حمایت نہ ہونے کے الزامات لگائے۔
اس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ بار کی سیاست کے اپنے مخصوص ڈائنامکس ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اب بار انتخابات صرف سیاسی نعروں یا کسی ایک نام پر نہیں جیتے جاتے بلکہ امیدوار اور قیادت کا عام وکلاء سے روزمرہ رابطہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بار کونسل کے الیکشن کسی ایک نام یا نعرے پر نہیں جیتے جاتے، اصل چیز وکلاء کے ساتھ مسلسل رابطہ اور موجودگی ہے۔‘‘
اسی تسلسل میں پروگرام کے دوسرے حصے میں رخ معیشت کی طرف موڑا گیا اور میزبان نے معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا تعارف کراتے ہوئے ان سے گفتگو کا آغاز کیا۔
شرح سود اور آئی ایم ایف کی شرائط
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں پچاس بیس پوائنٹس کمی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محض شرح سود میں کمی سے معیشت کو سہارا نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جب مجموعی معاشی ڈھانچہ کمزور ہو اور ٹیکس وصولی محدود رہے تو ایسی کمی علامتی اقدام بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد یہ کہنا کہ ملک خطرات سے نکل آیا ہے، دراصل صرف ڈیفالٹ سے وقتی بچاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط بدستور برقرار ہیں اور شرح نمو چار فیصد کے قریب رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی اور ورچوئل ایسٹس
عامر متین نے کرپٹو کرنسی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایا کہ پاکستان جس تیزی سے کرپٹو کی طرف بڑھ رہا ہے، آیا ریاست اور ریگولیٹری ادارے اس کے نتائج کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کئی ممالک، بشمول چین، اس شعبے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان میں بائننس اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کو اجازت دینے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
عامر متین نے سوال اٹھایا کہ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی سرمائے کے فرار، منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف کے خدشات موجود رہے ہوں، وہاں کرپٹو کو بغیر مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کے آگے بڑھانا کیا نئے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف نہیں۔ ان کے مطابق یہ محض ایک ٹیکنالوجی یا فنانشل ٹرینڈ کا معاملہ نہیں بلکہ قومی معیشت، شفافیت اور عالمی مالیاتی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ سوال ہے، جس پر واضح پالیسی اور جوابدہی کے بغیر آگے بڑھنا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کرپٹو کرنسی اور بائنانس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کرپٹو کی طرف تیزی سے بڑھتا رجحان سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ملک میں جہاں ریگولیٹری نظام کمزور ہو اور کالا دھن موجود ہو، وہاں کرپٹو کو کھلے انداز میں اجازت دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان میں اس شعبے میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے ممکنہ نتائج پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر میزبان نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی کشیدگی، عدالتی تنازعات اور معاشی دباؤ کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی توازن کے بغیر استحکام ممکن نظر نہیں آتا۔
بشکریہ 92نیوز

![عدالتی بحران، سیاسی کشیدگی، بار سیاست اور معیشت پر سنجیدہ سوالات، 92 نیوز کے پروگرام ’مقابل‘ میں [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11695_2025-12-15_21-00-03.webp)












