جنرل فیض حمید کی دھمکیاں اور انتقامی کاروائیاں؟ احتساب کا دائرہ ان تک محدود رہے گا یا پھیلے گا؟ پاکستانی ٹی وی ٹاک شو میں بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی گفتگو، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی سزا کے اثرات پر بات چیت۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام ‘کیپیٹل ٹاک’میں حالیہ بین الاقوامی اور ملکی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں سڈنی فائرنگ واقعے، پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی سزا کے اثرات پر بات چیت ہوئی۔پروگرام میں میزبان حامد میر جب کہ مہمانوں میں دانیال چوہدری، کامران یوسف، اور زبیر عمر نے اپنے ذاتی تجربات اور واقعات بھی بیان کیے، جنہیں پروگرام کی گفتگو کا حصہ بنایا گیا۔
سڈنی فائرنگ واقعہ اور بین الاقوامی بیانیہ
پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میرنے ایک بین الاقوامی خبر کی طرف توجہ دلائی، جسے ان کے بقول نظرانداز کرنا “بڑی ناانصافی” ہوتی۔ میزبان کے مطابق سڈنی میں ایک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں تقریباً سولہ افراد ہلاک ہوئے۔ گفتگو میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم پروگرام میں یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ یہ کوشش ناکام رہی۔
حامد میرنے بتایا کہ اس واقعے میں نوید اکرم نامی ایک شخص کا ذکر سامنے آیا، جس کے دوست نے ایک آسٹریلوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا۔ میزبان کے مطابق اس انٹرویو میں دوست نے یہ دعویٰ کیا کہ نوید اکرم کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ بھارت سے ہے۔ پروگرام میں آسٹریلوی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کا ایک مختصر حصہ بھی سنوایا گیا، جسے میزبان نے گفتگو کا حصہ بنایا۔
اسی تسلسل میں حامد میرنے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ملک پاکستان پر یہ الزام لگا رہا ہے، جبکہ پروگرام میں موجود گفتگو کے مطابق اسی ملک پر خطے میں منظم طریقے سے دہشت گردی پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ میزبان نے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش حملے، کیڈٹ کالج وانا میں بچوں پر حملے، اور جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے میں بھی بھارتی مداخلت کے الزامات سامنے آئے ہیں، جو پروگرام کی گفتگو کے مطابق “سب کے سامنے” ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں غیر معمولی پیشی
پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج، جسٹس طارق محمود جہانگیری، ساتھی جج جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں پیش ہوئے اور کھلے الفاظ میں کہا کہ انہیں اس عدالت پر اعتماد نہیں۔ میزبان کے مطابق ججوں کا عدالت میں پیش ہونا کوئی انوکھا واقعہ نہیں، تاہم ایک جج کا ساتھی جج کو نوٹس دینا اور اس نوعیت کی گفتگو کرنا عدالتی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا گیا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کا مؤقف تھا کہ ان کی کراچی یونیورسٹی کی ڈگری سے متعلق درخواست انہیں سنے بغیر قابلِ سماعت قرار دی گئی، انہیں عدالتی کام سے روک دیا گیا اور یہ سب کچھ بغیر نوٹس کے ہوا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا، ’’آپ نے مجھے سنے بغیر درخواست قابلِ سماعت قرار دی، مجھے عدالتی کام سے روک دیا، ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ڈگری کی منسوخی کا حکم متبدل ہے، وہ قرآن پر حلف اٹھانے کو تیار ہیں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے اور انہیں اس عدالت سے انصاف کی توقع نہیں، اس لیے کیس کسی اور جج کو منتقل کیا جائے۔
ججز کی تقرریاں اور جنرل فیض حمید کا مبینہ کردار
اسی تناظر میں حامد میر نے ماضی کی ایک گفتگو کا حوالہ دیا جس میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بتایا تھا کہ ججز کی تقرری کے عمل میں کس طرح ادارہ جاتی دباؤ شامل رہا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن آن ججز اپائنٹمنٹ کے معاملات میں جنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی غیر معمولی طور پر متحرک رہے۔
رانا ثناء اللہ کے بیان کے مطابق ، ’’جنرل فیض کسی کو جج لگوانے کے لیے مرے جا رہے تھے، ہم سے بھی رابطہ کیا گیا۔‘‘
پروگرام میں اس نکتے پر بات ہوئی کہ اگر ججز کی تقرریاں اس انداز میں ہوئیں تو بعد ازاں ان ججز کی آئین اور قانون سے وابستگی پر سوال کیوں نہ اٹھیں۔
دانیال چوہدری اور اان کے خاندان کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیاں اور خاندانی املاک کو نشانہ بنانے کے الزامات
دانیال چوہدری نے پروگرام میں مؤقف اختیار کیا کہ جنرل فیض حمید کے دور میں ان کے خلاف مختلف انداز سے دباؤ اور انتقامی کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کی دیواریں گرائی گئیں، ان کی بہنوں کی املاک کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
دانیال چوہدری کے مطابق عدالت میں جب ان پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جس وقت مبینہ خوردبرد کا الزام لگایا گیا، اس وقت ان کی عمر صرف سات سال تھی، جس پر کیس خارج ہو گیا۔ انہوں نے کہا، ’’جب عدالت نے عمر کیلکولیٹ کی تو میری عمر سات سال بنتی تھی، کیا سات سال کے بچے پر ایف آئی آر ہو سکتی ہے؟‘‘
دانیال چوہدری نے مزید بتایا کہ ان کی بہنوں کو دی گئی زمین، جو ان کے والد نے انہیں منتقل کی تھی، ایک ہی رات میں منسوخ کر دی گئی اور پرانے انتقال کو کالعدم قرار دے کر زمین کسی اور کے نام کر دی گئی۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا، ’’وہ زمین میری بہنوں کی تھی، ابو نے انہیں دی تھی، ایک رات میں سب کچھ کینسل کر دیا گیا۔‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا ایک چلتا ہوا اسکول، جس میں تقریباً آٹھ سو بچے زیرِ تعلیم تھے، ایک ہی دن میں سیل کر دیا گیا اور اسے سرکاری اراضی قرار دے کر وہاں تھانہ قائم کر دیا گیا۔ دانیال چوہدری کے مطابق یہ تمام اقدامات دباؤ ڈالنے کے لیے کیے گئے، اور انہوں نے کہا، ’’یہ سب پریشر ٹیکٹکس تھیں، لوگوں کا گلا دبانے اور انہیں چپ کرانے کے لیے۔‘‘
مزارِ قائد پر نعرہ، کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ پر دباؤ
سینیئر سیاسی رہنما محمد زبیر نے پروگرام میں جنرل فیض حمید کے مبینہ دباؤ اور دھمکیوں کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2020 میں کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے میں سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا۔
گفتگو کے دوران محمد زبیر نے بتایا کہ کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک روز قبل مریم نواز اور کیپٹن صفدر ایئرپورٹ سے ہوٹل جاتے ہوئے مزارِ قائد پر رکے تھے، جہاں کیپٹن صفدر نے مزار کے احاطے میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا، اور بعد ازاں اسی نعرے کو ان کی گرفتاری کی بنیاد بنایا گیا۔
محمد زبیر کے مطابق سندھ پولیس کی اعلیٰ قیادت اس گرفتاری کے حق میں نہیں تھی اور ان کا مؤقف تھا کہ نعرہ لگانا گرفتاری کا جواز نہیں بنتا، تاہم اس کے باوجود آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں بعد میں پتا چلا کہ آئی جی سندھ کے گھر جا کر انہیں کہا گیا کہ دفتر جا کر نفری بھیجیں تاکہ کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا جا سکے۔‘‘
محمد زبیر کے مطابق یہ فیصلہ مقامی سطح پر نہیں ہوا بلکہ دباؤ کے تحت رات گئے ہوٹل سے کیپٹن صفدر کو حراست میں لیا گیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے موجودہ رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’وہ بھی ایک وقت تھا جب مزارِ قائد پر جا کر ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگتے تھے، اب نون لیگ نے اس بیانیے کے سب سوئچ بند کر دیے ہیں، کہیں چابی بھی گھما دی گئی ہے۔‘‘
محمد زبیر نے پروگرام میں بتایا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے بعد وہ مریم نواز کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے، جہاں دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے، مگر اس بات پر تذبذب پایا جاتا تھا کہ یہ معاملہ عوام کے سامنے لایا جائے یا نہیں۔ محمد زبیر کے مطابق بیشتر رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ معاملے کو خاموشی سے نمٹا لیا جائے، تاہم مریم نواز نے اس پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا، ’’مریم نے کہا کہ یہ بات پبلک ہونی چاہیے، یہ انفارمیشن ایسے ہی پبلک کی جائے گی۔‘‘
محمد زبیر کے مطابق جب یہ سوال اٹھا کہ یہ بات میڈیا کو کون بتائے گا تو کمرے میں خاموشی چھا گئی، جس پر مریم نواز نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ حامد میر تک پہنچایا جائے۔
محمد زبیر نے بتایا، ’’سب خاموش تھے، پھر مریم نے کہا کہ محمد زبیر حامد میر کو بتائیں گے۔‘‘
ان کے مطابق اسی فیصلے کے تحت انہوں نے حامد میر سے رابطہ کیا اور گرفتاری کے پس منظر سے آگاہ کیا، جبکہ باقی رہنماؤں کا مؤقف محتاط تھا اور وہ معاملے کو اس مرحلے پر میڈیا میں لانے کے حق میں نہیں تھے۔
محمد زبیر نے بتایا کہ، ’’یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ مجھے براہِ راست تھریٹ کیا گیا، کہا گیا ‘ہو ڈو یو تھنک یو آر؟‘‘
محمد زبیر نے مزید بتایا کہ بعد ازاں ان کے خلاف ایک جعلی ویڈیو اسکینڈل بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایجنسی کے افسران نے خود تسلیم کیا کہ ویڈیو جعلی ہے، تاہم اس کی باضابطہ تردید جاری نہیں کی گئی۔
محمد زبیر نے کہا، کہ ’’میرے سامنے اور میری اہلیہ کے سامنے بتایا گیا کہ ویڈیو فیک ہے، مگر آفیشل کلیئرنس کبھی جاری نہیں کی گئی۔‘‘
کامران یوسف: اغوا، آنکھوں پر پٹی اور خبر کی قیمت
پروگرام میں سینیئر صحافی کامران یوسف نے اپنی ذاتی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 27 دسمبر 2019 کو انہیں اسلام آباد ایکسپریس وے سے دن دہاڑے اغوا کیا گیا، ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔
کامران یوسف نے کہا، ’’مجھے دن دہاڑے اٹھایا گیا، ہینڈکف کیا گیا اور بلائنڈ فولڈ کیا گیا۔‘‘
کامران یوسف کے مطابق یہ سب ایک خبر کی اشاعت کے بعد ہوا، جو کوالالمپور سمٹ، دفتر خارجہ کی سفارتی وارننگز اور افغان طالبان سے متعلق معاملات پر مبنی تھی۔
کامران یوسف نے کہا، ’’یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ سیاسی حکومت پر تنقید کو نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ بنا کر صحافی کو اٹھا لیا گیا۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید کے دور میں وہ سرخ لکیریں مٹ گئیں جو پہلے ادارے خود طے کرتے تھے۔
کامران یوسف نے کہا کہ، ’’جنرل فیض کے دور میں لائن بلر ہو گئی، سیاسی تنقید بھی نیشنل سیکیورٹی بنا دی گئی۔‘‘
فیض آباد دھرنا اور سیاسی معاہدے پر دستخط
پروگرام میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کی گفتگو بھی شامل کی گئی، جس میں انہوں نے بتایا کہ فیض آباد دھرنا کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے پر جنرل فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کرنے پر اصرار کیا۔
احسن اقبال کے مطابق، ’’میں نے کہا کہ یہ سیاسی دستاویز ہے، اس پر آپ کا دستخط مناسب نہیں، مگر جنرل فیض نے کہا کہ دوسری پارٹی اس وقت تک معاہدہ قبول نہیں کرے گی جب تک میں دستخط نہ کروں۔‘‘
احتساب کادائرہ پھیلے گا یہیں رک جائے گا؟
پروگرام میں اس سوال پر بھی گفتگو ہوئی کہ جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی کیا صرف ایک فرد تک محدود رہے گی یا اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ کامران یوسف نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے بیان کے آخری حصے سے عندیہ ملتا ہے کہ دیگر سیاسی عناصر بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا،
کامران یوسف نے کہا، ’’یہ ایک سائیکولوجیکل بیریئر ٹوٹا ہے، اس کا اثر وقت کے ساتھ نظر آئے گا۔‘‘
محمد زبیر نے اس نکتے پر زور دیا کہ ایک فرد کو سزا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
انہوں نے کہا،
محمد زبیر نے کہا، ’’اگر ہم سمجھیں کہ ایک سزا سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو یہ غلط فہمی ہوگی، اصل مسئلہ لامحدود اختیارات کا ہے۔‘‘
پروگرام کے اختتام پر میزبان حامد میر نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزا دینا پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے، مگر اس کے اثرات اور نتائج پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا یہ احتساب کا آغاز ہے یا محض ایک مثال۔
بشکریہ(جیو نیوز )

![جنرل فیض حمید کی دھمکیاں اور انتقامی کاروائیاں؟ احتساب کا دائرہ ان تک محدود رہے گا یا پھیلے گا؟ [Publish]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11672_2025-12-15_21-04-00.webp)












