بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ پاکستان کرپٹو ریگولیشن میں مؤثر ماڈل بن سکتا ہے، جو ملکی ٹیک سیکٹر کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیر اعظم کے مشیر اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے لیے کرپٹو ریگولیشن کا مؤثر ماڈل بن سکتا ہے۔ دبئی میں بائننس بلاک چین ویک کی تقریب میں یو اے ای کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے وزیر عمر سلطان العلمہ سمیت ڈیجیٹل اثاثوں اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے عالمی ماہرین نے شرکت کی۔ اس بڑی ڈیجیٹل تقریب میں پاکستان کی نمائندگی بلال بن ثاقب نے کی۔
تقریب سے خطاب میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ملکوں کے لیے ورچوئل ایسٹس کی ریگولیشن معاشی ترقی کی کنجی ہے۔ تقریب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرپٹو ایونٹس میں پاکستان کی موجودگی سفارتی اور ٹیکنالوجی کا سنگ میل ہے، اور پاکستان کا عالمی کرپٹو گفتگو میں فعال کردار ملکی ٹیک سیکٹر کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
ذرائع کے مطابق، بلال بن ثاقب 9 دسمبر کو ابوظبی میں عالمی ایونٹ میں بھی شریک ہوں گے۔















