ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان حکومت کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا، 4910 انٹیلی جنس آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالر کا فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ دیا گیا، جو اب پاکستان، خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کو بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 206 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس آپریشنز کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بارڈر مینجمنٹ ایک چیلنج ہے، اور افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش جیسی تنظیموں کی موجودگی پاکستان کے لیے خطرہ ہے، اور افغان طالبان کو ان کی سہولت کاری بند کرنی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم غیر ملکی اسلحہ اور فنڈنگ سے دہشتگردی کو فروغ دے رہی ہے، جسے روکنے کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا۔












