قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پیش کی گئی، جس میں چیف جسٹس کی تعریف، آرٹیکلز میں ترامیم اور شقوں کا اخراج شامل ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پیش کی گئی جس میں کئی اہم ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ وزیر قانون و انصاف، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یہ ترامیم پیش کیں۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 6 میں لفظ ‘وفاقی آئینی عدالت’ شامل کرنے جبکہ آئین میں نئی شق A2 شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ آرٹیکل 10 میں ‘سپریم کورٹ آف’ کے الفاظ شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شق 4 اور شق 19 کو حذف کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔
آرٹیکل 176 میں ‘سپریم کورٹ’ کے الفاظ شامل کرنے اور موجودہ چیف جسٹس کو مدت ملازمت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان رہنے کی تجویز دی گئی۔ شق 51 اور شق 55 کے اخراج کی سفارش کی گئی جبکہ شق 56 میں نئی ذیلی شق (ab) شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔
ترمیم کے تحت ‘چیف جسٹس آف پاکستان’ کی نئی تعریف دی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس وہ جج ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں سینئر ہوگا۔
وزیر قانون نے کہا کہ یہ ترامیم قانون کے ارتقا کا حصہ ہیں۔ 27ویں ترمیم کی تمام 59 شقیں منظور کر لی گئیں جبکہ اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ ویل چیئر پر ووٹ ڈالنے آئے۔














