امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر آئین کا حلیہ بگاڑنے کا الزام عائد کیا اور آئین کی اصل شکل بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر آئین کا حلیہ بگاڑنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آئین پاکستان کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ایوان عدل لاہور میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ان کا موقف واضح تھا اور وہ آئین کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ ختم کر کے چیف جسٹس سپریم کورٹ بنایا گیا ہے اور اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیراعظم کی صوابدید پر ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں حکومت کی اکثریت ہے، پہلے ججز کی اکثریت تھی۔ آئین میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور کوئی بھی آئین و اسلامی تعلیمات کے خلاف استثنیٰ نہیں پا سکتا۔
انہوں نے شہباز شریف کے سٹاک ایکسچینج کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹرز کو خرید لیا جاتا ہے جب اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہو تو زندہ باد اور جب نہ ہو تو مردہ باد۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 2015 سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور اب غیر جماعتی انتخابات کے لیے لوکل گورنمنٹ ایکٹ لایا گیا ہے۔












